لُو اور گرمی کے مضر اثرات


گرمی کی لہر سے جب حرارت بڑھ جاتی ہے تو اس سے کافی لوگوں کو لُو لگ جاتی ہے ۔اس کے علاوہ گرمی کے اثر کی وجہ سے طبیعت نڈھال رہنے لگتی ہے۔اس طرح کی کیفیت عام طور پر ان حالات میں ہوتی ہے ،جب سخت دھوپ کی حالت میں دن میں سفر کیا جائے اور نمک وپانی جو پسینے کے ذریعے خارج ہوتے ہیں،ان کی تلافی نہ کی جائے۔ایسی حالت شدید گرم کمرے میں بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔اس حالت میں جسم کی حرارت بہت زیادہ ہوجاتی ہے ،پسینا بالکل نہیں آتا،جسم بالکل خشک وگرم ہوجاتا ہے اور شدید حالت میں بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے ۔
لُو لگنے کی حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے ،جب دھوپ کی شدت کافی گھنٹوں تک برداشت کرنی پڑے۔

جولوگ گرمی اور سخت کام کے عادی نہیں ہوتے ،وہ اس کا جلد شکار ہو جاتے ہیں 

اسی طرح فربہ لوگ گرمی برداشت نہیں کر سکتے۔اگر ضرورت سے زیادہ کپڑے پہن رکھے ہوں یا کمرابند ہو ،حبس ہواور ہوا کا گزرکم ہوتو گرمی کا اثر آسانی سے ہو جاتا ہے ۔شراب نوشی سے بھی انسانی جسم کا پانی کافی کم ہو جاتا ہے ،اس لیے شراب نوشوں پر گرمی کا اثر جلد ہو جاتا ہے ۔لُو لگنے سے جو لوگ مرجاتے ہیں، ان کا معائنہ کرنے پر یہ پتا چلتا ہے کہ ان کے دماغ کے علاوہ گردے ،جگر اور دوسرے اعضا کو کافی گزند پہنچ چکی ہے ۔
عموماً جب گرمی میں کوئی محنت کرتا ہے تو جسم کی حرارت زیادہ ہو جاتی ہے ،سر میں درد ہوتا ہے ،چکر آتے ہیں،بے چینی وبے قراری بڑھ جاتی ہے ،جسم خشک ہو جاتا ہے ،پسینا بالکل نہیں آتا اور حرارت 105 فارن ہائٹ سے زیادہ ہو جاتی ہے۔نبض کی رفتار تیز اور کبھی کبھی بے قاعدہ ہو جاتی ہے ۔سانس تیزی سے چلتا ہے ۔پیشاب یا پاخانہ خطا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات خونی دست آنے لگتے ہیں۔پیشاب بہت کم ہو جاتا ہے ۔اس طرح بیمار کی حالت بڑی نازک اور خطر ناک ہو جاتی ہے ۔خون کا دباؤ بہت گر جاتا ہے ،اس لیے اگر کسی شخص سے متعلق یہ معلوم ہو کہ اس کو تیز بخار ہے ،جسم خشک ہے ،پسینا نہیں آرہا،دماغی حالت غیر تسلی بخش ہے اور وہ گرمی ودھوپ میں گھومتا رہا ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کو لُو لگ گئی ہے ۔شدید ملیریا میں بھی بعض دفعہ یہی کیفیت ہو جاتی ہے ۔اس کا علاج فوری ہونا چاہیے اور جسم کو ٹھنڈا کرکے حرارت 101یا 102فارن ہائٹ تک کر لینی چاہیے۔
یہ صرف ایک گھنٹے کے اندر ہو جانا چاہیے۔برف کے ٹھندے پانی میں بیمار کو لٹا کر جسم کی مالش کی جائے ۔تھر ما میٹر سے ہر 3منٹ بعد حرارت چیک کی جائے اور جیسے ہی حرارت 102فارن ہائٹ پر آجائے تو بیمار کو واپس بستر پر لٹا دیا جائے۔اس کے بعد اگر درجہ حرارت زیادہ بھی ہو جائے تو نلکے کے پانی سے کپڑا بھگو کر ماتھے پر رکھنے سے کم ہو جاتا ہے ۔علاج میں جلدی اس لیے ضروری ہے کہ اگر کچھ گھنٹے اسی طرح لُو کی حالت میں گزر جائیں تو افاقہ ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے ۔ایسے مریضوں کو اوکسیجن ،گلوکوس اور نمک کا پانی بھی دینا چاہیے۔افاقے کے بعد کچھ روزتک چھوٹی موٹی شکایات رہتی ہیں،لیکن رفتہ رفتہ وہ بھی جاتی رہتی ہیں۔لُولگنے کے علاوہ گرمی میں مستقل کام کرنے سے طبیعت نڈھال بھی رہنے لگتی ہے ،جسم پر دانے نکل آتے ہیں اور طبیعت میں بے چینی سی پائی جاتی ہے ۔جسم خشک رہتا ہے اور اس کی حرارت زیادہ ہوجاتی ہے۔
بعض دفعہ گرمی کے اثر کی وجہ سے چکر آنے لگتے ہیں،جی متلاتا ہے اور معدے میں بے چینی سی ہو جاتی ہے ۔ایسا عموماً گرمی میں کافی دیر کھڑے رہنے سے ہوتا ہے ۔کچھ لوگوں کو گرمی کے موسم میں پیروں میں جلن اور پنڈلیوں میں سختی وکھچاؤ ہونے لگتا ہے ۔منھ اور زبان خشک ہو جاتی ہے اور آنکھوں کے گرد حلقے پڑجاتے ہیں ۔ہر وقت تھکن رہتی ہے ،بھوک اُڑجاتی ہے اور کوئی کام کرنے کوجی نہیں چاہتا ۔ان علامات اور بیماریوں کی خاص وجہ تودھوپ اور گرمی ہے ،لیکن یہ ہوتی اس لیے ہیں کہ ہمارے جسم سے پانی اور نمک ضائع ہوتا رہتا ہے ۔اگر ہم اس کو پورا کرتے رہیں تو پھر ان علامات اور شکایات سے بہت حد تک بچ سکیں گے،اس لیے گرمی کے موسم میں پیاس سے زیادہ ،یعنی 12گلاس روزانہ پانی پینا چاہیے۔اس طرح لُو لگنے اور گرمی کے اثرات کا امکان کم ہو جائے گا۔ 
پانی ہمارے جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے ،جس طرح ایک آب خورہ خود گرم ہوا میں ٹھندا رہتا ہے ،بشرطے کہ اس کے اندر پانی ہو۔آب خورے کی سطح سے پانی اُڑ کر اسے ٹھنڈا رکھتا ہے ،بالکل یہی حال ہمارے جسم کا ہے ۔پانی کی قلت کی وجہ سے جسم کو ٹھنڈا کرنے کا نظام معطل ہو جاتا ہے اور جسم گرمی کے اثرات کی زد میں آجاتا ہے،جو خفیف سے لے کر شدید تک ہو سکتے ہیں۔شدید شکل لُو ہے۔
جب دھوپ جسم پر پڑتی ہے تو خون کی گردش جلد کی سطح پر زیادہ ہو جاتی ہے ،اس طرح خون کا پانی پسینے کی شکل میں خارج ہوجاتا ہے ۔جس قدر پسینا خارج ہو گا ،اسی قدر زیادہ جسم کی گرمی خارج ہو گی اور جسم ٹھنڈا رہے گا ۔اگر اس دوران پانی وافر مقدار میں پیا جاتا رہے تو یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی۔اگر گرمی اور دھوپ میں زیاد ہ دیر تک رہا جائے اور جوپانی ضائع ہو رہا ہے ،اس کی مناسب مقدار میں تلافی نہ کی جائے تو جسم میں پانی کی قلت ہو جائے گی اور پسینا آنا بند ہو جائے گا ،جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ شخص خطر ناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے ۔
جب لُو اور گرمی میں پسینا آنا بند ہو جائے تو لُو لگنے کا شدید اندیشہ ہو تا ہے ۔بعض صورتوں میں سخت گرمی اور دھو پ بھی لُو لگنے کے لیے ضروری نہیں ،بلکہ کوئی ایسا شخص جو ابھی بیماری سے اُٹھا ہے،اُس کے جسم میں قلت آب ہے یا اسہال وقے میں مبتلا ہے یا اس کے جسم کا پانی ضائع ہو گیا ہے ،اگر معمولی گرمی میں بھی باہر نکلے گا تو لُو کا اثر ہو سکتا ہے ۔گرمی کے اثر کی وجہ سے جسم کی حدت بڑھنے لگتی ہے اور سخت بخار کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔چوں کہ زیادہ تر خون جلد کی طرف گردش کررہا ہوتا ہے ،اس لیے ان لوگوں میں جسم کے دوسرے اعضائے رئیسہ مثلاً دل،دماغ،معدے اور گردوں وغیرہ کو خون کی رسد کم ہو جاتی ہے اور یہ لوگ متلی ،چکر اور کم زوری کی شکایات کرتے ہیں۔جب جسم کی حدت اور بڑھتی ہے تو پٹھوں میں بل پڑتے ہیں اور جسم خشک وگرم ہوجاتا ہے ۔یہ لُو کی نہایت شدید اورخطر ناک شکل ہے ،اگر اس کا بر وقت علاج نہ ہو تو زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
گرمی کے اثرات ان لوگوں پر زیادہ ہوتے ہیں ،جو عموماً اس کے عادی نہیں ہوتے ،سرد مقامات کے رہنے والے ہوتے ہیں یا ان کا رنگ سیاہ ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ بچوں اور خواتین پر بھی گرمی کا اثر زیادہ ہوتا ہے ۔وہ لوگ جن میں خون جمنے کا عارضہ ہوتا ہے ،مثلاً رگِ دل اور رگِ دماغ کے مریض ،ان میں خون گاڑھا ہونے کے سبب خون جمنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔اس کے علاوہ جن لوگوں کے گرد ے اچھی طرح کام نہیں کرتے،وہ پانی کی کمی کی وجہ سے (جو پسینا آنے کی وجہ سے ہو جاتی ہے)شدید بیمار ہو سکتے ہیں،اس لیے انھیں محتاط رہنا چاہیے اور پانی کی کمی نہیں ہونے دینی چاہیے ،اس لیے کہ اصل مسئلہ نمک اور پانی کاہوتاہے۔
تحفظ وعلاج
یہ ابتداہی سے واضح ہوجاناچاہیے کہ گرمی کے اثرات کا اصل سبب جسم میں نمک اورخصوصاً پانی کی قلت ہوتی ہے ۔ہمارے جسم سے مسلسل پانی اس طرح بھی خارج ہورہا ہوتا ہے کہ اس کا ہمیں احساس نہیں ہوتا ۔سرد موسم میں بھی جلد کی سطح اور سانس کی نمی کے ذریعے تقریباً چھے سوملی لیٹر پانی غیر محسوس طریقے پر ضائع ہو جاتا ہے ،جو تقریباًتین گلاس پانی کے برابر ہے۔جب موسم گرم ہو اور زیادہ پسینا آئے تو پانی کا ضیاع کثیر ہو جاتا ہے ،جو دو ہزار ملی لیٹر بھی ہو سکتا ہے اور بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ،یعنی دس بارہ گلاس پانی کا زیاں۔جسم سے پانی کا اخراج،حرارت کم کرنے اور جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا موٴثر ذریعہ ہے ۔اگر یہ حرارت خارج نہ ہوتو زندگی ناممکن ہو جائے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پسینا جلد کے مسامات سے خارج ہوتا ہے ۔یہ بات دلچسپ ہے کہ دنیا میں ضرورت سے کم پانی پینے کا رواج ہے اور ہمارے جیسے گرم ملک میں اس عادت کے نقصانات بہت زیادہ ہیں ۔پرانے حکما کا مشورہ ہے کہ جب بھی گھر سے نکلیں ،پانی پی کر نکلیں ،خصوصاً گرمی کے موسم میں۔گرمی کے سدباب کے لیے ضرورہے کہ پانی پیاس سے زیادہ پیا جائے ،جو تقریباً دس بارہ گلاس روزانہ سے کم نہیں ہو نا چاہیے۔

جب کسی شخص سے متعلق یہ شبہ ہو جائے کہ لُو کا اثر ہو گیا ہے تو اس کو ٹھنڈی جگہ میں لٹا دیا جائے ،جسم پر سے زیادہ ترکپڑے خصوصاً نائلون کے کپڑے ہٹادیے جائیں۔اس لیے کہ ان میں سے گرمی خارج نہیں ہوتی۔اگر بیمار کر کھرّی چار پائی پر پانی میں بھیگی ہوئی چادر اوڑھا کر ہوا کے رخ لٹا یا جائے تو مناسب ہے ۔اس طرح جسم کی حرارت کم ہو جائے گی۔بھیگے ہوئے ٹھنڈے تو لیوں سے جسم کی مالش کی جائے تو بھی حرارت کم ہوجاتی ہے اور سر پر برف کی پٹیاں رکھی جائیں تو دماغ گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رہتا ہے ۔اصل علاج پانی ہے ،جس میں خفیف نمک کی آمیزش کی جاسکتی ہے ،جب مریض منھ سے پانی نہ پی سکے تو نمک آمیز گلوکوس رگ میں چڑھائی جاتی ہے ۔دوران خون کو موٴثر رکھنے کے لیے تلووں اور پنڈلیوں کے نیچے سے اوپر کی طرف مالش کی جائے۔طبیعت درست ہونے کے بعد کئی روز تک گرمی اور دھوپ سے بچنے کی کوشش کریں۔
زمانہ قدیم سے جو مجرب نسخے لُو کے علاج کے لیے مستعمل ہیں ،ان میں آب شورہ (لیموں پانی)،شربت عناب،شاہترہ ٹھنڈائی،سنکج بین،خشک آلو بخارے ،کیری کا شربت ،سرکہ یا املی کا شربت مشہور ہیں ۔طبی لحاظ سے اصل اہمیت نمک اور پانی کی ہے ۔پانی کو خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنانے کے لیے ان میں سے کوئی بھی شے شامل کی جاسکتی ہے ،لیکن نمک اور پانی کی قلت پوری نہیں کی گئی تو صرف املی اور لیموں سے کام نہیں چلے گا۔گرمیوں میں سبزیاں کھانے کا مشورہ بھی اس لیے دیا جاتا ہے کہ ان کا اصل جزوپانی ہے اور اسی وجہ سے ان کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے ۔روغنی غذا اس لیے گرم ہے کہ چربی میں بالکل پانی نہیں ہوتا۔
گرمی کے موسم میں لوگ گھر سے پانی پی کر نکلیں اور سفر میں پلاسٹک کی بوتلوں میں پانی ساتھ رکھیں ،تاکہ ضرورت کے وقت پی سکیں۔یہ تندرستی کاضامن ہے۔

Previous تربوز․․․پیاس کو تسکین پہنچا تاہے
Next فزیو تھراپی۔مفید طریق علاج

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *