اب ڈائٹ ہوگی صحت پر سمجھوتہ کئے بغیر


منیزے خالد کو ہم کوکنگ ایکسپرٹ اور بیکنگ آرٹسٹ کے طور پر جانتے ہیں ۔حال ہی میں انہوں نے بڑھتے ہوئے وزن سے پریشان رہنے والے لوگوں کے لئے ڈائٹ پلان بنایا ہے جو Keto Diet سے بے حد مشابہت رکھتا ہے ۔منیزے کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایک ماہ بھی سنجیدگی سے اس پر ہیزی غذا
کو استعمال کرلیں تو صحت وتندرستی کے ساتھ ساتھ وزن میں بتدریج کمی لا سکتے ہیں۔
صحت پر کوئی سمجھوتہ کئے بغیر وہ تمام غذائیں کھائی جائیں گی جو اپنی پیشکش میں خاصی کشش رکھتی ہیں۔ ذائقے دار بھی ہیں اور جن سے انصاف کئے بنا نہیں رہا جا سکتا۔
کون کہتا ہے کہ بناسپتی گھی اور دیسی گھی وزن بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔آپ ڈالڈاVTFمیں کھانے تیار کریں۔وزن نہ بڑھنے کا ہدف با آسانی حاصل کرلیں گے۔دیسی گھی کے ساتھ ساتھ زیتون کا تیل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

ڈالڈا کا اولیوآئل بھی رینج میں شامل ہے ۔علاوہ ازیں تازہ زیتون بھی روٹین کی خوراک میں شامل کرلیں۔
فارمی مرغی سے اجتناب برت کر،دیسی مرغی اور چوزے میں سالن پکانے کی روش اپنالیں۔اگر وزن بڑھنا یا موٹاپا آپ کا مسئلہ نہیں تب بھی ذیابیطس،PCOSاور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض سے بچاؤ کی ممکنہ تدبیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
اتنا ہی پکائیں جتنا زیادہ سے زیادہ دووقت کے کھانے کے لئے کافی ہو تاکہ تازہ کھانے کھائے جا سکیں۔
تیسرے اور چوتھے وقت تک انہیں گرم کر کے مضر اثرات بڑھ جاتے ہیں ۔اگر سبزیاں ہوں تو وہ سیاہی مائل رنگت کی ہوجاتی ہیں اور Nitrateمضر صحت کیمیکل میں تبدیل ہو کر جسم میں کینسر پیدا کر سکتا ہے ۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ سبزی میں کلوروفل سبز رنگ پر مشتمل اور نارنجی یا سرخ بیٹا کیروٹین کی وجہ سے ہوتا ہے علاوہ ازیں اس میں فلیونوائڈز بھی موجود ہوتے ہیں جو زائد حرارت کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں ۔
آپ کا ایک وقت کا کھانا 1200کیلوریزسے زائد نہیں ہونا چاہئے۔بے چھنے آٹے کی روٹی کھانے کا مشورہ اس لئے دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں فائبر ہوتا ہے اور اس سے کینسر کا خطرہ ٹل جاتاہے۔
آدھی پیالی سیب کے رس میں آدھی پیالی کے برابر چقندر کا رس ملا کر پی لیں ۔ترش ذائقہ بد مزہ محسوس ہو تو ایک چمچ شہد ملا کر پیا جا سکتا ہے۔
تخم بالنگا پانی یا تازہ دودھ میں بھگو کروہ خواتین وحضرات پئیں جنہیں معدے کی جلن یا ہاضمے کے مسائل رہتے ہوں۔
اناج میں دالوں کے علاوہ پھلیاں بھی شامل کریں۔یہ بھی سرطان مانع یعنی اینٹی کینسر غذائیں ہیں۔
سرخ گوشت کم سے کم کھائیں۔گائے اور اونٹ کے دودھ میں غذائیت اور توانائی دونوں موجود ہیں۔
مچھلی میں اومیگا 3فیٹی ایسڈز بکثرت موجود ہوتے ہیں یہ چونکہ Polyunsaturated Fatty Acidsہیں جو انسانی جسم میں ضرورت سے زیادہ موجود کولیسٹرول کو Gall Acidsمیں تبدیل کر دیتے ہیں ۔اس طرح جسم میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھنے نہیں پاتی ۔اومیگا 3فیٹی ایسڈ ز انسانی جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔
گردے کے امراض سے بچنے کے لئے تربوز اور خربوزہ کھالئے جائیں تو اچھا ہے ۔وٹامنز اور معدنیات کے ساتھ ساتھ ان میں موجود پانی کی زائد مقدار بھی مفید ہے۔
روزانہ دس گلاس پانی پینے سے بھی وزن اعتدال میں رہتا ہے۔
چپس اور پاپ کارن کے چھوٹے پیکٹ کھائے جا سکتے ہیں بڑے پیکٹ کھانے سے زیادہ کیلوریز ذخیرہ ہونے کا اندیشہ قائم رہتا ہے۔
ایک بار استعمال کیا گیا تیل دوباہ استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس تیل میں Hyperoxidation کے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو جسم میں کینسر پیدا کر سکتے ہیں۔
پر ہیزی غذا کے استعمال کے دوران ذائقے اور کھانوں کی خوشنمائی پر بھی سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں۔دل لبھانے والی غذائیں بھی کھاتے رہنا چاہئے تاکہ وزن کم کرنا بوجھ نہ محسوس ہو۔
پزا،پاستا اور برگرز بھی ایک مخصوص توازن اور اعتدال سے بنائے اور کھائے جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ان غذاؤں میں سفید گوشت اور سبزیاں استعمال کی جاتی ہیں۔یہ نباتاتی پروٹین مضر صحت نہیں ہیں۔
میٹھا کھانے کی عادت ترک کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ چاکلیٹ موز بھی دل لبھانے والی خوراک میں سے ایک ہے ،کوشش یہ کرنی چاہئے کہ جہاں آپ پورا کپ کھالیا کرتے تھے اب اس کا نصف حصہ ہی کافی تصور ہو گا۔
کاربوہائیڈریٹ اور چکنائیوں کو مخصوص مقدار اور اعتدال سے استعمال کیا جانا درست ہو گا،اگر آپ نے احتیاط سے غذا کھائی تو وہ دن دور نہیں جب آپ کا جسم چربی جلانے کی مشین بن کر بے حد متحرک ہو جائے گا۔

Previous ’ ’یوگا․․․تندرستی کا آسان علم ہے“
Next دل کی بات ۔۔۔تحریر: فیضی ڈار

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *