تربوز․․․پیاس کو تسکین پہنچا تاہے


موسم گرما میں آموں کی آمد خوشیوں کا بگل بجاتی ہے اسی طرح ایک اور پھل تربوز کی بہار بھی آتی ہے ۔آم اگر فولاد کا خزانہ ہیں تو تر بوز گردوں،گرمی کے بخاروں اور مثانے کی جلن دور کرنے کا مجرب غذائی نسخہ ہے ۔اس کی بیل فرش یعنی زمین پر بچھتی ہے ۔پھل گہرا سبز اور دھاری دار بھی ہو سکتا ہے ۔اس کا گودا سرخ اور ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اور بہت حد تک لذیذ بھی ،اس کے اجزاء کا بنیادی جو ہر 90فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے ،اس کے بیج سیاہی مائل بھورے ہوتے ہیں۔
تربوز کی شکل گول ہویا بیضوی اس سے قطعاً فرق نہیں پڑتا عموماً گول شکل کا تربوز گہرے سبز رنگ کا اور بیضوی شکل کا یعنی لمبوتر اتر بوز قدرے ہلکے سبز رنگ کاہوتا ہے جسے لوگ مدنی تربوز بھی کہتے ہیں ۔جو اپنی خاصیت اور مزاج میں سرد پھل ہے لہٰذا سرد مزاج والوں کے لئے مفید نہیں ۔

شدید گرمی اور لو کے موسم میں تربوز کھانا اور اس کا شربت پینا مفید ہیں ۔

تاہم جب بھی کھائیں سیاہ کٹی مرچ،تھورا سا نمک اور بھنا ہوا زیرہ سفوف کی شکل میں ملا کر کھانے سے بلغم نہیں کرتا ۔قبض کے مریضوں کے لئے تریاق پھل ہے البتہ کمزورہاضمے والے کم مقدار میں اور کبھی کبھی کھائیں تو بہتر ہے۔
فوائد
تربوز کھانے سے قبض جیسے ام الامراض سے نجات ملتی ہے۔جسم کے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں تو معدے اور جگر کو اپنے افعال انجام دینے میں آسانی اور سہولت رہتی ہے ۔یہ پھل تیزابیت اور خون کی حدت کو کم کرتا،پیاس کو تسکین دیتا ہے ۔گردوں کی صفائی کا عمل انجام دیتا ہے ۔موسمی بخار کی کیفیت زائل کرتا ہے۔

طبیب عموماً یرقان کے مریضوں کو تربوز اور سکنجبین کا اکٹھا استعمال بتاتے ہیں ۔تربوز جب بھی کھائیں کھانے سے ایک یا پونہ گھنٹہ پہلے کھالیں ۔یہ کھانے کے بعد کھانے والا پھل نہیں یوں تو کوئی بھی پھل کھانے کے بعد نہیں کھانا چاہئے اس طرح ہاضمے میں الجھاؤ پیدا ہوتا ہے ۔اور پھل اپنی نصف افادیت کھودیتے ہیں ۔تربوز کا پانی بھی پینا چاہئے یہ گرم مزاج افراد کو فرحت دیتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
جس روز تر بوز کھایا جائے اس روز چاول کھانے سے پر ہیز کرنا درست ہے ۔جب آپ اینٹی بایوٹکس لے رہے ہوں تب تربوز کھانا مفید ہے ۔

سینے کی جلن اور تیزابیت محسوس کرنے والوں کو تربوز بہت فائدہ کرتا ہے ۔بسا اوقات تیزابیت کی وجہ سے آنتوں میں خراش آجاتی ہے یا دست آنے لگتے ہیں ۔ان دونوں صورتوں میں تربوز کھانا مفیدہے۔ یہ جسم میں پانی کی کمی کو دور کرتا ہے۔
موسم گرما میں لولگنے کی شکایت ہو جائے یا آپ دھوپ میں سفر کرتے ہوں تو تربوز کے پانی اور گودے سے جسم کی حرارت دور کی جاسکتی ہے ۔دھوپ لگنے سے بخار کی کیفیت میں بھی آرام دینے والا پھل ہے اس سے معدے کی گرمی مٹ جاتی ہے۔
تربوز کا مزاج سرد ہے یعنی یہ سرد پھل ہے اسے پرانے نزلے زکام یا بلغم بننے کی صورت میں نہ استعمال کیا جائے تو اچھا ہے ۔بوڑھے افراد کو بھی اعتدال کے ساتھ یہ پھل کھانا چاہئے۔
یہ گرمی کی کھانسی اور پیاس کو دور کرتا ہے ۔جسم کو فربہ کرتا ہے ۔رحم اور مثانے کی جلن کو دور کرتا ہے ۔گردے اور مثانے کی پتھریوں کو نکا لتا ہے۔
نوجوان فزی ڈرنکس کے بجائے گھر پر محتاط انداز سے تربوز کا شربت پےئں تو پیاس بھی بجھے گی اور غذائیت بھی حاصل ہو گی ۔اسی طرح تواضع کے لئے بھی گرمی کے اس مشروب سے استفادہ کیا جا سکتاہے ۔

Previous فائبرجان بچانے والی بہترین غذا
Next لُو اور گرمی کے مضر اثرات

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *